یہی حالات رہے تو 5 سال بھی سکول بند رکھ سکتے ہیِں، سندھ حکومت

 مئی 13 2020: (جنرل رپورٹر) خدانخواستہ یہی حالات رہے تو پانچ سال تک بھی سکول بند رکھ سکتے ہیں- صحت پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا- وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صحت پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گی- کچھ نہیں کہہ سکتے کہ سکول کب کھلیں گے- اگر یہی حالات رہتے ہیں تو 5 سال تک بھی سکول بند رکھ سکتے ہیں- کوئی متبادل رستہ اختیار کیا جائے گا

زرائع کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طالب علموں کو اگلی کلاسز میں پروموٹ کر دیا جائے گا- ان تمام کلاسز کے امتحانات مناوخ کر دئیے جائیں گے بغیر امتحان کے اگلی کلاسز میں بٹھا دیا جائے گا

موجودہ بحران بابت سوال کے جواب میں کہا کہ کچھ نہیں کہہ سکتے یہ بحران کب ختم ہو گا- ممکن ہے 6 سے 8 ماہ تک سکول نا کھولے جائیں- ہو سکتا ہے جن مضامین میں جو بچے کمزور ہوں صرف ان کا امتحان لے لیا جائے

نہم تا بارہویں جماعت کے امتحانات متعلق انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے بورڈز اور نیونیورسٹیز کے چئیرمینز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو آئیندہ 24 گھنٹوں میں سفارشات پر مبنی رپورٹ فراہم کرے گی- جو فیصلہ کمیٹی کرے گی اسی پر عمل درآمد کیا جائے گا

ان خیالات کا اظہار وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کیا- اس اجلاس میں صوبہ سندھ کے تعلیمی سال, امتحانات کے متعلق لائحہ عمل اور چھٹیوں کے اختتام سمیت دیگر تعلیمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

سندھ حکومت کے اس اجلاس میں سیکٹری تعلیم سید خالد حیدر شاہ, سیکٹری کالجز باقر نقوی, اور دیگر اہم ذمہ داران بھی شریک تھے- جبکہ اس سے پہلے صوبائی وزیر کی زیر صدارت اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس دو گھنٹے تک ہوتا رہا

اس اجلاس میں نجی اسکولز کی سوسائٹیز کے  عہدیداران بھی شریک تھے جنہوں نے اپنے مسائل کا حل کیا

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے سلسلے میں ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند ہیں جس پر صوبائی اور وفاق حکومتیں تعلیمی پالیسی بنا رہے ہیں تا کہ بچوں کا تعلیمی سال ضائع نا ہو

Pakis Daily

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *